Muslim Girl Names

Haida Name Meaning in Urdu – حائدہ

What Does Haida Name mean?

Haida is a beautiful Muslim boy name which is oriented from Urdu Language having meanings be on one side. According to our Numerology Experts, It`s Lucky Number is 1.

Name Haida
Meaning Be aside, be on one side
اردو حائدہ
معنی علیحدہ ہونا، ایک جانب ہونا
Religion Islam
Origin Arabic
Gender Girl
Lucky Number 1
Lucky  Hours 2 AM to 3 AM
Lucky Stones Amethyst
Lucky Flowers Carnation
Ruling Hours 3 PM to  4 AM
Favorite Colour Green

علم الاعداد کی رو سے بالم نام کا عدد ایک بنتا ہے۔ ذیل میں علم الاعداد کی روشنی میں مذکورہ بالا نام کی تمام تر تفصیلات دی گئی ہیں

کسی بھی نام کا عدد کیسے نکالتے ہیں؟

ایک نمبر عدد کے درجہ ذیل اوصاف ہیں

یہ نمبر شمس کا ہے

ذاتی اوصاف اور حال

ا یک نمبرعلم الاعد اد میں پہلا نمبر ہے اور اہم بہی ہے ۔ جہا ں کہیں یہ ظا ہر ہو ۔ تو اس کا مطلب  مجموعی طورپرایک خود مختا را نہ وصف کو ظا ہر کرتا ہے   یہ ایک ذی اعتما د اور مرکزی طا قت کا نمبر ہے۔ اس کا حا مل شخص اپنے آپ پربھروسہ کرنے والاہو تا ہے اور یہ شخص اپنے کیریکٹراورکاروبار میں بڑی توجہ دے کرترقی کی طرف لے جا نا چایتا ہے۔مقد ر کے لحا ظ سےاچھی قسمت کو ظا ہر کرتا ہے اس کی مختصرخصو صیا ت یہ ہیں

تعمیری اوصا ف          

   تحزینی اوصا ف

 اعتما د

قرضہ

یقین

فضو ل غرور

طا قت

لا لچ

ملکیت

  آوارگی

خوا ہش اقتدار

فضول خرچی

دیا نت دا ری

نما ئش

قا بل اعتبا ر

جدائ

علم الاعدا د کے ما ہر اس نمبر کو حکمرا نی کا نمبر کہتے ہیں ۔یہ با د شا ہوں ۔حا کموں اورا مرا ۶ پر حکو مت کر تا ہے ۔ یہ د نیوی بز گی کی علا مت ہے۔ بڑا ئی کی تو ضیح کر تا ہے ۔ہر چیز میں تر قی کر نے وا لا اور ہر چیز پر اثر اند ا ز ہونے وا لا ہے ۔

ذ ا تی ا و صا ف

جن لو گوں کا نمبر ایک ہے۔ وہ لوگ عظیم مصلح مضبو ط قوت ارا دی کے حا مل اورٓاذاد خیا ل واقع ہوتے ہیں۔ وہ اپنی  کا میا بی پر بڑے نازاں ہوتے ہیں۔ پیدائشی طور پر لیڈ ر قسم کے خیا لات رکھتے ہیں۔ بعض لوگ کامیا ب رہتے ہیں۔ مگر ایسا کم ہو تا ہے۔ کیونکہ اکثر ایسے افراد کے راستوں میں غیر یقینی رکا وٹیں کھڑی  ہو جا تی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ لو گ شا ذ و نا د رہی اپنی بنیا دی خصو صیا ت کو عملی جا مہ پہنا نے میں کا میا ب ہو سکتے ہیں۔

لہذا اکثر نمبر ایک وا لے ا یسے غیر یقینی حا لات سے د و چا ر ہو تے ہی حوصلہ شکنی کا شکا ر ہو جا تے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی پیدائشی  خو بیو ں کو عملی جامہ پہنا نے کے تصور کا پیچھا کر تے کرتے سا ری زند گی گزار د یتے ہیں ۔ لیکن پھربھی لاشعوری طا قتییں ان کے اندر  کار فر ما رہتی ہیں ۔ جو اس کا حو صلہ بڑھا تی ہیں ۔ نتیجتاوہ لو گ جو جا ئزوسا ئل سے کا م لیتے ہیں او ر اپنی د ھن میں کسی سے گھبرا تے نہیں ۔

تو وہ کا میا بی سے ہمکنا ر ہو جا تے ہیں جب کا میا بی سے ہمکنا ر ہو تے ہیں تو ا سکے نشے میں مست ہو جا تے ہیں اور با لفرض اگر وہ اپنی بنیا دی تمنا ئو ں کی کا میا بی نہیں دیکھ سکتے تو سفا کا نہ ذ ہنیت سے کا م لے کر برے طر یقے ا ختیا ر کر لیتے ہیں ڈ کٹیٹر شپ خو د غر ضی ظا لما نہ روش ان کا خا صہ بن جا تی ہے ۔

عادات

اس نمبر کا حامل قانون سے باللاتر ہونا پسند کرتا ہے    یعنی قانون کو اپنے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنائے رکھتا ہے ۔مقابلہ یا رکاوٹ کی صورت میں بے صبرا ہوجاتا ہے۔ اور یہ چاہتا ہے کہ تمام کام عین وقت پر اور صحیح ہوجائیں۔

وہ چھوٹی چھوٹی پیچیدگیوں میں پھنسنے سے نفرت کرتا ہے۔ بڑی مشکلات سے گھبراتا نہیں۔ وہ  کچھ کہ دیتا ہے ۔  کسی  کی قطعا پراہ   نہیں کر تا ۔ خوا ہ   وہ اسے  نقسا ن ہی کیو ں نہ پہنچا د ے ۔لیکن کہنے سے دریغ نہیں کر ے گا ۔ نہ ہی گھبرائے  گا ۔

نہ ہی ذو معنی الفا ظ کہے گا ۔ وہ اس با ت کو پسند کر تا ہے کہ عمدہ صا ف اور واضع زبا ن میں سیدھے سا دہ طریقے    پر اپنے موضوع          اور مقصد کو پیش کرے۔   اکثر اوقا ت اپنے جو نیئر عملے پر غلط اور شدید حکم لگا دیتا ہے

نمبر ایک کا حامل مضبوط ارادے والا اور ہا ر نے وا لا نہیں ہو تا ہے ۔ نہا یت پر مغز اور خیالات سے بھرپوردماغ رکھتا ہے ۔کسی سے اپنے دلائل کے لئے بھیک نہیں مانگتا ۔ نہ ہی رحم کی درخواست کر تا ہے ۔اپنے ارادوں سے باز نہیں رہتا اور انکو پورا کر نے کیلئے وہ کسی قسم کی نمائش کوبھی پسند نہیں کر تا

۔خوداعتما دی اس میں بہت ہو تی ہے اور ارادہ کا مضبو ط ہوتا ہے

ان لو گو ں کا طرز گفتگو مثا ل کے طو پر  یہ ہو تا ہے ۔ تم اسے ذرا دخل اندازی کر لینے دو  میں اسے بتا  دوں گا۔۔۔۔۔ ادھر ادھر کی فضو ل گپیں  مت ہا نکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصل موضوع  پر ٓا ئو۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بھلا اس طرح کب تک بچتے رہو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم فلاں کے متعلق کیا کیا سو چتے رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا تو  یہ نظریہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ذرا ایک د و د ن تم انتظا ر تو کرو میں پھر نپٹ لوں گا۔۔۔۔۔۔۔

                        ان تمام فقرا ت سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ لوگ تحکم والے ہوتے ہیں ۔ پختہ ارا دہ خودا ری اورغیرت رکھتے ہیں ۔جب بھی ان کو کسی کام میں مشغو ل دیکھوسمجھ لو کہ یہ شکست کھانے والے نہیں ہیں۔ ہر جگہ نما یا ں اور اول رہنے کی کوشش کرتے ہیں

۔ان کے لیے کسی کام میں نا کام رہنا گو یا ان کی زلت ہے اور یہ اس وقت ہے کہ جب تک وہ کوئی خا ص مقام   نہ حا صل کر لیں ۔ اس سے نہ ان کو خو شی حا صل ہو تی ہے۔ سرور ٓاتا ہے۔ جب تما م لو گوں کے  د ما غ تھک جا ئیں یا کسی کا م سے عا جز آجائیں تو یہ اس وقت محنت شاقہ سے اسے مکمل کر لیتے ہیں  اور ایک کا میا ب کا ر یگر ثا بت ہو تے ہیں ۔

یہ مو قعہ کو کبھی ہا تھ سے جا نے نہیں د یتے ۔ جب یہ لیڈ رہوں تو کا میا ب رہنما ہوتے ہیں ۔ خطرا ت میں پڑنے سے نہیں چو کتے

اس نمبر کی سب سے بڑ ی خو بی یہ ہے کہ اس کا حا مل ہر چیز اور ہر کا م کو خود کر تا ہے اورجرات اور بے با کی سے کام لیتا ہے ۔ اس میں میدان جنگ میں کار ہائے نمایاں دکھا نے کی سی حوصلہ مندی ہو تی ہے ۔ اس کی طبع میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ یہ خو شامد پسند ہو تا ہے ۔اپنے گرد کم عقل لو گو ں کا حلقہ جمائے رکھتا ہے اور کسی کی نصیحت پر یہ کان نہیں دھر تا

صفا ت

یہ پہلی ہی ملا ت قا میں دوسروں پر اچھا اثرڈالتے ہیں خصوصأ اگر آد می لیڈر ٹا ئپ کا ہو تو جلد سے جلد دوسرے پر اپنی قا بلیت کاسکہ جمانے کی کو شش کرے گا علاوہ ازیں عمومأ عام ملاقا ت میں بھی ایسا کر تارہتا ہے دوسروں کو اپنے خیا لات سے متفق کر لینا اس کیلے معمولی با ت ہے

مگریہ اس کی فطرت میں داغ ہے کہ یہ غصہ سے جلد بے قابوہو جا تا ہے نمبرایک کے وہ لوگ جوتحقیق و تدوین سے تعلق رکھتے ہیں ۔ سطح ہو تے ہیں ۔ کیو نکہ یہ انکی بنیادی جز ئیات کی زیادہ گہرائیوں میں دیکھنا پسند نہیں کر تے ایسا ہی وہ نئے لوگوں سے ملنے کے وقت کر تے ہیں وہ یہ چا ہتے ہیں کہ لوگ خواہ کچھ ہوں ہمیں اس سے غرض نہیں ۔ جاننے والوں دوستوں یاحلقہ اثر کے لوگوں کاقائل ہو جاناکا فی ہے

۔اگر ایک نمبر والے کو تو صیفی نظروں سے دیکھا جائے ۔ تووہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا اس کو اپنے آپ پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے وہ اپنے حل اس کو اپنے آپ پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے وہ اپنے حلقہ اثرمیں رکھنے کی قوت رکھتا ہے وہ اپنی نسبت کسی دوسرے کی بھلائی کوکوئی اہمیت نہیں دیتا ۔ آپ کو کبھی اتفاق ہو توکسی نمبر ایک والے سے دشمنی کرکے دیکھ لیں ان کی یہ فطرت ہے کہ وہ نہ تو جلد معا ف کر سکتے ہیں، نہ ہی بھلانے کی کو شش کر تے ہیں۔ بعض او قا ت ان کی انا نیت پسندی خود غرضی اور ظالمانہ رویہ حد سے تجا وز کر جاتا ہے۔

یہ بھی ان میں ایک حیرت انگیز صفت ہے کہ بعض اوقا ت وہ کسی طر ف اگر ما ئل ہوں گے  تو بغیر سوچے سمجھے وہ تمام کام کر ڈالیں گے۔ جو ان کی فطرت  کے خلا ف ہوں گے۔مگر ایسا بے حد کم ہو تا ہے۔ یہ ان کے تحت الشعور میں چھپی ہوئی قوت اگر لا شعور کے تصاد م کے بعد کامیاب ہوجائے تو ممکن ہے ورنہ نہیں۔یہ اپنی رائے کے سامنے کسی کی رائے کوکوئی فو قیت نہیں دیتے چاہے اپنے تعلق دار بھی اس کے قریب اس کی برائی یا خوبی بیا ن کریں۔

            جسمانی صحت

صحت کی جا نب سے یہ کا مل تندرست نمبر ہے۔غیر معمولی جسمانی قوت کاحامل ہے ۔مضبو ط جسم رکھتا ہے لیکن بد پر ہیز ہو نے کی وجہ سے اور بڑا حلقہ رکھنے کی وجہ سے صحت کراب کر لیتا  ہے۔ ایسے لوگوں کے چہرے چیچک کے داغوں کی وجہ سے داغ دار ہوجاتے ہیں جسم کے اعضاء میں سے دل پر حکمران ہے ۔

عشق اور شادی بیاہ

شادی اور کاروبار اکثروبیشتر ساتھ سا تھ رہتے ہیں وہ ایک بہترین دماغ رکھتا ہے اس لیے محبت میں بہترین سودا کرتا ہے یہ لوگ اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں جب ان کو کامیا بی ہو جا تی ہے تو حتیٰ الامکان کو شش کرتے ہیں کہ ان کی پسندیدہ چیز ان کے زیر اثررہے وہ اپنی ہرخوبی اور قابلیت استعمال کرتے ہیں ۔ جومتاثر کرنے میں جادوکا کام کرے ۔اوران کی یہ کو شش ااس حد تک پختہ اوریک طرفہ ہوتی ہے کہ اس کے سامنے کوئی رشتہ دار کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔

وہ اپنی پوری کوشش اس بات پرصرف کردیتا ہے کہ اس کی پسند یدہ چیز ہمیشہ اس کیلے قبضہ قدرت میں رہے اور اس امر کیلے وہ حاسدانہ حربے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا وہ خاوند یا بیوی جس کا ایک نمبرہوگا ۔ وہ اپنی شریک حیات کیلئے ایک نعمت ثابت ہوگا ۔ ہر معاملہ میں ہمدرد اور وفا دار ثابت ہوگا ۔

تجربہ سےثابت ہوا ہےکہ نمبرایک والے زندگی کی تحریکات نمبر .6.2سے ملتی ہے اگران کی آپس میں شادی ہو جا ئے توبہتررہے گا۔ یہ پرسکون زندگی کوپسند کرتے ہیں مگرجن لوگوں کی زندگیوں پرنمبر3 کااثرہو۔وہ اپنی پسند کو فوقیت دیتے ہیں نمبر4 والے بھی قدرےایسی ہی خصوصیت کے مالک ہو جاتے ہیں نمبر ایک کا ملاپ 7.5۔کے ساتھ بھی ممکن ہے اس لئے یہ اس پسند یدہ نمبر ہو تے ہیں بیوی یا محبوبہ اس نمبرکی ہوتوخوب بنتی ہے

تا ہم ان لوگوں کی خصوصیات کا بڑے غو روخوض کے بعد ہی پتہ چلتاہے ۔ اسے آدمی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس کا سا تھی اسی نمبر کا حامل ہو ۔

اگر اس کی بیوی یا محبوبہ نمبر9 یا.8.۔ سے تعلق ہوتواس کی ازواجی زندگی ہنگامہ خیزی اورجزبات کا شکارہوجائے گا ۔ شا د و نادرہی ایسے جوڑے سکون کی زندگی گزارتے ہیں

مصروفیات زندگی

ایک نمبروالے افراد اپنے تا ثرات ظاہر کرنے میں یکتا ہوتے ہیں ۔وہ جوبھی خیال آفرینی کرتے ہیں .اسےعملی طور پر کر گزرتے ہیں ۔ ہووہ حاکمانہ  صلا حیتوں کے مالک  ہو تے ہیں ۔ کسی د فتر یا سو سائٹی یا مزہبی  ادا رے کا ا ہم ر کن  بننا پسند  کرتے ہیں ۔ اگر انہیں کسی کمیٹی کا رکن منتخب کیا جا ئے تو وہاںیہ اپنی  پوری حا ضر با شی  سے اپنی اہمیت  کو واضح کر تے ہیں

۔چو نکہ لیڈر شپ کے متمنی  ہو تے ہیں اسی لیے اپنے لئے  رائے اور اعتما د  حا صل کر نا ان کی زبر د ست خوا ہش ہو تی ہے ۔ یہ فنکا ر بھی اچھے ہو تے ہیں  مگر ان میں انتظامی صلا حیت بدرجہ اتم موجود ہو تی ہے ۔

اگر عملی زندگی میں  کسی فنکا ر  کی  حیثیت سے کام کریں تو کا میا ب  رہتے ہیں ۔ فلمی زند گی  مین ایکٹر  پروڈیو سر اور ڈ ائر یکٹر کی  زند گی اختیا ر کر کے شہر ت کے ما لک بن سکتے ہیں ۔ ایسے افراد  جن کی زندگی کا تعلق  نمبر ایک سے ہے ۔ وہ ایکٹر ہو یا ایکٹرس کا مرا نی  کے ما لک ہو تے ہیں ۔  میدا ن صحافت میں ایک  مصنف  کی نسبت  بہ حیثیت  نگرا ن صحا فت اچھا مقا م پیدا  کر سکتے ہیں ۔ اگر یہ افراد اپنی ذ ہنی صلاحیتوں کو بروئے کار  لائیں  تو وہ بہت جلد  سا ئنس کے ہر شعبہ  میں داخل ہو کر مقبولیت  حاصل کر سکتے ہیں ۔

خصوصا تحقیقا تی ادارہ  مین ایجا دا ت کے ز مرہ میں یا پھر انجینئرنگ کے شعبہ میں جلد شہرت حاصل کر لیتے ہیں ۔ سا ئنس کے شعبہ میں بھی با اختیار  فرد  کی حیثیت سے مفید  ثا بت ہو تے ہیں ۔  اسی طرح  تجا رت کے میدا ن میں اگر یہ لو گ آئیں  تو وہا ں بھی ان کی صلا حیتں نما یا ں ہو ں گی تجا رتی حلقوں کے لوگ ان کوخوش آ مد ید  کہنے  کے لئے تیا ر  رہے ہیں ۔

ا لبتہ  ملا زمت  میں نمبر  اہک  وا لے  لوگ  اپنے  افسروں  سے ہمیشہ  کبیدہ خا طر  رہتے ہیں  با وجود اس با ت کے اپنی ملازمت  کو بھی  نہا یت  محنت  سے سرانجام  د یتے ہیں ۔مگر انفر ا دی طو ر پر زود حس ہو نے کی وجہ  سے کبھی  اپنے افسروں  سے  کبھی  سا تھ  کا م  کرنے والوں  سے شا کی  رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی فطرت آذاد خیا لی  کی وجہ سے  دوسروں کے  اعتما د  کو حا صل  کر نے  کا با عث نہیں بن سکتی ۔

ایک نمبروالے افراد اپنے تا ثرات ظاہر کرنے میں یکتا ہوتے ہیں ۔وہ جوبھی خیال آفرینی کرتے ہیں .اسےعملی طور پر کر گزرتے ہیں ۔ ہووہ حاکمانہ  صلا حیتوں کے مالک  ہو تے ہیں ۔ کسی د فتر یا سو سائٹی یا مزہبی  ادا رے کا ا ہم ر کن  بننا پسند  کرتے ہیں ۔ اگر انہیں کسی کمیٹی کا رکن منتخب کیا جا ئے تو وہاںیہ اپنی  پوری حا ضر با شی  سے اپنی اہمیت  کو واضح کر تے ہیں ۔چو نکہ لیڈر شپ کے متمنی  ہو تے ہیں اسی لیے اپنے لئے  رائے اور اعتما د  حا صل کر نا ان کی زبر د ست خوا ہش ہو تی ہے ۔

یہ فنکا ر بھی اچھے ہو تے ہیں  مگر ان میں انتظامی صلا حیت بدرجہ اتم موجود ہو تی ہے ۔ اگر عملی زندگی میں  کسی فنکا ر  کی  حیثیت سے کام کریں تو کا میا ب  رہتے ہیں ۔ فلمی زند گی  مین ایکٹر  پروڈیو سر اور ڈ ائر یکٹر کی  زند گی اختیا ر کر کے شہر ت کے ما لک بن سکتے ہیں ۔

ایسے افراد  جن کی زندگی کا تعلق  نمبر ایک سے ہے ۔ وہ ایکٹر ہو یا ایکٹرس کا مرا نی  کے ما لک ہو تے ہیں ۔  میدا ن صحافت میں ایک  مصنف  کی نسبت  بہ حیثیت  نگرا ن صحا فت اچھا مقا م پیدا  کر سکتے ہیں ۔ اگر یہ افراد اپنی ذ ہنی صلاحیتوں کو بروئے کار  لائیں  تو وہ بہت جلد  سا ئنس کے ہر شعبہ  میں داخل ہو کر مقبولیت  حاصل کر سکتے ہیں ۔

خصوصا تحقیقا تی ادارہ  مین ایجا دا ت کے ز مرہ میں یا پھر انجینئرنگ کے شعبہ میں جلد شہرت حاصل کر لیتے ہیں ۔ سا ئنس کے شعبہ میں بھی با اختیار  فرد  کی حیثیت سے مفید  ثا بت ہو تے ہیں ۔  اسی طرح  تجا رت کے میدا ن میں اگر یہ لو گ آئیں  تو وہا ں بھی ان کی صلا حیتں نما یا ں ہو ں گی تجا رتی حلقوں کے لوگ ان کوخوش آ مد ید  کہنے  کے لئے تیا ر  رہے ہیں ۔ ا لبتہ  ملا زمت  میں نمبر  اہک  وا لے  لوگ  اپنے  افسروں  سے ہمیشہ  کبیدہ خا طر  رہتے ہیں

  با وجود اس با ت کے اپنی ملازمت  کو بھی  نہا یت  محنت  سے سرانجام  د یتے ہیں ۔مگر انفر ا دی طو ر پر زود حس ہو نے کی وجہ  سے کبھی  اپنے افسروں  سے  کبھی  سا تھ  کا م  کرنے والوں  سے شا کی  رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی فطرت آذاد خیا لی  کی وجہ سے  دوسروں کے  اعتما د  کو حا صل  کر نے  کا با عث نہیں بن سکتی ۔

ایک نمبروالے افراد اپنے تا ثرات ظاہر کرنے میں یکتا ہوتے ہیں ۔وہ جوبھی خیال آفرینی کرتے ہیں .اسےعملی طور پر کر گزرتے ہیں ۔ ہووہ حاکمانہ  صلا حیتوں کے مالک  ہو تے ہیں ۔ کسی د فتر یا سو سائٹی یا مزہبی  ادا رے کا ا ہم ر کن  بننا پسند  کرتے ہیں ۔

اگر انہیں کسی کمیٹی کا رکن منتخب کیا جا ئے تو وہاںیہ اپنی  پوری حا ضر با شی  سے اپنی اہمیت  کو واضح کر تے ہیں ۔چو نکہ لیڈر شپ کے متمنی  ہو تے ہیں اسی لیے اپنے لئے  رائے اور اعتما د  حا صل کر نا ان کی زبر د ست خوا ہش ہو تی ہے ۔ یہ فنکا ر بھی اچھے ہو تے ہیں  مگر ان میں انتظامی صلا حیت بدرجہ اتم موجود ہو تی ہے ۔

اگر عملی زندگی میں  کسی فنکا ر  کی  حیثیت سے کام کریں تو کا میا ب  رہتے ہیں ۔ فلمی زند گی  مین ایکٹر  پروڈیو سر اور ڈ ائر یکٹر کی  زند گی اختیا ر کر کے شہر ت کے ما لک بن سکتے ہیں ۔ ایسے افراد  جن کی زندگی کا تعلق  نمبر ایک سے ہے ۔ وہ ایکٹر ہو یا ایکٹرس کا مرا نی  کے ما لک ہو تے ہیں ۔  میدا ن صحافت میں ایک  مصنف  کی نسبت  بہ حیثیت  نگرا ن صحا فت اچھا مقا م پیدا  کر سکتے ہیں ۔ اگر یہ افراد اپنی ذ ہنی صلاحیتوں کو بروئے کار  لائیں  تو وہ بہت جلد  سا ئنس کے ہر شعبہ  میں داخل ہو کر مقبولیت  حاصل کر سکتے ہیں ۔ خصوصا تحقیقا تی ادارہ  مین ایجا دا ت کے ز مرہ میں یا پھر انجینئرنگ کے شعبہ میں جلد شہرت حاصل کر لیتے ہیں ۔

سا ئنس کے شعبہ میں بھی با اختیار  فرد  کی حیثیت سے مفید  ثا بت ہو تے ہیں ۔  اسی طرح  تجا رت کے میدا ن میں اگر یہ لو گ آئیں  تو وہا ں بھی ان کی صلا حیتں نما یا ں ہو ں گی تجا رتی حلقوں کے لوگ ان کوخوش آ مد ید  کہنے  کے لئے تیا ر  رہے ہیں ۔ ا لبتہ  ملا زمت  میں نمبر  اہک  وا لے  لوگ  اپنے  افسروں  سے ہمیشہ  کبیدہ خا طر  رہتے ہیں

  با وجود اس با ت کے اپنی ملازمت  کو بھی  نہا یت  محنت  سے سرانجام  د یتے ہیں ۔مگر انفر ا دی طو ر پر زود حس ہو نے کی وجہ  سے کبھی  اپنے افسروں  سے  کبھی  سا تھ  کا م  کرنے والوں  سے شا کی  رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی فطرت آذاد خیا لی  کی وجہ سے  دوسروں کے  اعتما د  کو حا صل  کر نے  کا با عث نہیں بن سکتی ۔

لہذا وہ  ہر شخص سے خوش  گوار تعلقا ت بصد مشکل  طویل عرصہ تک قائم رکھ سکتے  ہیں اور اسی فطرت کی وجہ سے اپنی ایسی ہی خواہشات کا شکار ہو کر دشمنو ں کے چنگل میں الجھے رہتے ہیں جو ان کی اپنی ہی پالیسی کی وجہ سے پیدا ہوجاتے ہیں اسی طرح ملازمت کے دوران ہمیشہ نا خوش گوار ماحول رہتا ہے  نتیجتا” وہ ہر وقت ذہنی ابتلا میں مبتلا رہتے ہیں البتہ یہ لوگ اچھے ٹیچر اور قابل آموز کار ثابت ہوسکتے ہیں

دولت کا حصول

نمبرایک کے  افراد اپنی قابلیت کی بناء پر دولت پیدا کرسکتے ہیں ۔خوش قسمتی ان کا ساتھ دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ اگروہ بردباری اور سکون قلبی کا دامن نہ چھوڑیں تو وہ جلد شہرت کے مالک بن سکتے ہیں  مگر ایسا نہیں ہوتا ۔وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد جتنی دولت پیدا کرتے ہیں اتنی جلدی اسے ضائع کردیتے ہیں

۔نمبرایک والے لوگوں کی زندگی میں دوچار مواقع ہی ایسے آتے ہیں جو دولت مند بننے کا  سبب پیدا کرتے ہیں ۔مگر وہ اپنی خامیوں کی وجہ سے اندھیروں میں کھوجاتے ہیں ان لوگوں کا جمع شدہ سرمایہ اگر ہو بھی تو فورا” وہ اپنی اختتامی مدارج کی طرف مائل ہو جاتے ہیں

اور بعض اوقات محض وقتی فائدہ کے علاوہ کچھ جمع نہیں کر پاتے بہرحال ان کی بنیادی ضرورتیں ضرور پوری ہوتی ہیں بعض نمبر ایک کے افراد اپنی جمع شدہ رقم شیئر ز میں لگاتے ہیں یا پھر اس کا نعم البدل یہ ڈھو نڈ  لیتے ہیں کہ جوا میں قسمت آزمائی کریں وہ تصورات کے حسین لبادے میں لپٹاہوا وہاں جا پہنچتا ہے مگر بے سود

۔ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ معاشی استحکام کے لئے اچھے تصوات رکھیں ۔ خیالی پلاؤکو عملی جامعہ پہنانا یا فضول خرچی کرنا بدنصیبی کاباعث ہوگا ۔یا دیوالیہ پن ۔

ا حتیا ط

مہینے کی ایک  دس  انیس یا اٹائیس تاریخوں میں پیدا ہو نے والے ایک نمبر کے ماتحت ہوتے ہیں وہ تمام بڑےبڑے ہند سے جن کا مفرد نمبر ایک ہوتا ہے ۔وہ اس نمبر والے سے متلق ہوتے ہیں

ان کو چا ہیے کہ اپنے تمام کام اور کاروبار کسی بھی ما ہ کی ایک  ۔1. 10 .19. 28 ۔تاریخوں میں شروع کریں اور   ۔24 جولائی سے 23  اگست کے درمیان یا  21مارچ سے20 اپریل کےدرمیان خوش بختی لازمی ہے اتوار کا دن نمبر ایک والوں کے لئے خوش قسمتی کا دن ہے

اس کے بعد سوموار بھی  موفق ہے وہ تمام رنگ جن  میں سنہرا  اور پیلا رنگ ہو ان کے لئے موزوں ہوتے ہیں یہ لوگ اگر غبر کا ٹکڑا  اپنے پاس رکھیں جس وقت وبائی امراض کا دور دورہ ہو تو مرض کبھی  ان کے پاس نہ پھٹکے گا اور عام وقتوں  میں عام امراض سے بھی محفوظ رہیں گے ۔

تاریخ پیدائش سے شخصیت

نمبر ایک

یہ نمبر نہا یت اچھے مجلسی آ داب رکھنے پر دلالت کرتا ہے ۔اس نمبر کا حامل نہایت نرم دل شائستہ اطوار ہو گا ۔اور اس کے دوست اسے قدر  و منزلت کی نگاہ سے دیکھیں گے ۔ اس شخص کے دوست اس کے دلدار ہوں گے

  اور اس کے دشمنوں کے دل میں جذبہ انتقام بہت کم ہو گا ۔ اس کے دوستوں کاحلقہ بہت وسیع ہوگا ۔محبت کے سلسلہ میں یہ شخص بہت کامیاب رہے گا اور اس کا محبوب اس سے شدید طور پر محبت کرے گا

1شمس

جو تا ریخ پیدئش کی نمائندگی کرتا ہے ان تا ریخوں یکم197107 اور28 کو پیدا ہوئے ہوں یہ اعلی شخصیتوں  سے تعلق رکھتے ہیں

طاقت

اس نمبر کا ستارہ شمس ہے جو عمل اور قوت کا پتہ دیتا ہے ۔اس لئے نمبر ایک  کو بنیادی نمبر تصور کیا جاتا ہے جو کسی فرد کی قوت عمل اور خوا ہشات کا پتہ دیتا ہے ۔لیڈر شپ ،حکمرانی یا حاکمانہ یاخصائل ۔اور قوت پذیری کے ساتھ ساتھ کامیابی کا بھی مظہر ہے

۔چنانچہ آپ نمبر ایک کے حصہ دار ہیں ۔اگر آپ کی پیدائش یکم 19۔ 10 اور 28 ہے تو یقینا” شمس کی قوت آپ  میں دخل رکھتی ہے ۔ آپ کی شخصیت ۔واقعات  اور حالات کی آئینہ دار ہے آ پ میں کارکردگی کی قوت بدرجہ اتم موجود ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حاکمانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دوسرے پر بڑےعمدہ ا ثرات مرتب کر سکتے ہیں

جبکہ لوگ آپ کے حکم ماننے سے عار محسوس نہ کریں گے کیونکہ وہ آپ کی شخصیت سے متا ثر ہو جائیں گے

یہ  نمبر آپ کی اہمیت  اورجذبہ قوت کو  مکمل طو ر پر  وا ضح اور  تفصیل  میں پیش کرنے کا  منبع ہے  اور یہی وجہ ہے کہ آپ دوسروں  پر بخو بی  قبضہ  رکھ سکتے ہیں ۔

 اپنے ذاتی خوا ص  اور فطری عا دت کے تحت بچوں اور جوا نوں کی ہمدردی کرنے والے ہیں ۔ حسب مو قع  چھوٹوں کو خوشیاں فرا ہم کرنے میں فخر محسوس ہو گا ۔اور اپنی عادت کے تحت ان کوتحا ئف  اور خو رد نوش  سے محفوظ  کرو نے سے گریز نہ کر یں گے ۔

چنانچہ اس طر ز عمل سے وہ لوگ آپ کے ہر حکم کو بخوشی  قبو ل کرکے فر ما نبرداری  کر یں گے ۔ آپ کمانے والے ہونے کے ساتھ ساتھ  اخراجات کے شمار کرنے کے معاملات میں بڑی نرم طبیعت کے مالک ہیں ۔

چھوٹے چھوٹے اخرا جات کے معاملے میں بڑی بے صبری سے کام لینے والے ہیں ۔آپ فطری طار پر مالی معاملا ت میں آزادی چاہتے ہیں ۔بر عکس اس کے کہ اجتماعی یا  ادارا تی ذمہ دا ریوں سےاجتناب کرنے والے ہیں ۔پھر آپ اپنے  خیا لا ت کا  اظہار کرنے میں بڑے بردبار اور سمجھدار اور سلیقہ شعا ر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے  خیالا ت دو سروں پر بڑی عمدگی سے واضح اور ظاہر کرسکتے ہیں  ۔

پیدائش کا عدد کیا ظاہر کرتا ہے

نمبر 1

جس شخص کے مقدر کایہ عددہو وہ ہمیشہ آزادی  کا شائق رہے گا ۔ اس کے لئے کسی قسم کی پا بندی نا قا بل بردا شت ہوں گی ۔ مزاج میں تکبر و غرور زیادہ ہو گا ۔  را ئے پر عمل کرے گا ۔ ہر طر ح سے قابل اعتما د ہو گا ۔

اس میں ذمہ داری سے  خد مات سر انجام دینے کی کا فی صلا حیت  ہوگی ۔ دو سرو ں پر ہمیشہ حکمرا نی  کر ے  گا ۔ فطری طور شجاع  اور بہا در ہو گا ۔ اسے اکثرامراض قلب سےتکالیف پہنچیں  گی اور  داہنی آنکھ کے مجروح ہونے کا اندیشہ رہے گا  ۔

جسمانی صحت بالعموم اچھی رہے گی چہرے کا رنگ سرخی مائل ہو گا ۔

پیشہ وارانہ فطرت

یعنی کام کی نوعیت کے عدد سے نمبر جس قسم  کی  کاروباری  یا ملازمتی فطرت یا صلاحیت بخشتے ہیں وہ یہ ہے

نمبر 1

یہ نمبر مختلف اور بہت سے خود مختارانہ کاموں سے متعق ہے ۔ وہ لوگ جو کسی کام کی  planning  پلاننگ  یا ڈیزائننگ کرنا چاہیں ان کی مددکرتا ہے کسی نئے کام کو ترتیب دینے یا یہ تکمیل تک پہنچا نے یا ابتدائی طور پر اسے مکمل کرنے والوں کا یہ نمبر ہے

استاد ۔ پروفیسر لیکچرار ۔ریسرچ کرنے والے حسابدان۔سائنسدان موجد منیجریہ تمام کا ان لوگوں کو کرنا چاہیے  جن کا نمبر ایک  ہو۔وہ لوگ جنہوں نے پہلے کوئی نیا کام نہ کیا ہو اور وہ کسی نئی کو شش اور نئے کام کو توجہ  اور انہماک سے انجام دینے کے لئے دوڑدھوپ کریں  یا وہ جو اس کو شش میں ہوں کہ کوئی نیا کام کریں ۔

وہ سب اسی نمبرکی ذیل میں آتے ہیں مختصر طور پر ایک نمبر ان لوگوں کے لئے ہے جو بنیاد رکھنے والے اور تعمیری کام کرنے والے ہوں ۔

نمبر ایک کی روحانی قوت

یہ نمبر ان کے لئے موزوں ہے جو فطرتا” ہنگامی زندگی کے حق میں  ہوں گے  یہ آدمی  جھوٹے ہنگا موں یا واقعا ت کے قا ئل نہیں ہوں گے ۔

بلکہ حقیقی  طو ر پر ایسے ہوں گے یہ کبھی اس بات  کی پر واہ نہیں کریں گے کہ ہنگا مہ پر ورزندگی کو دنیا کس نگا ہ سے د یکھے گی بلکہ کسی بات کی پر واہ  کئے بغیر اپنے مقصد حیا ت کی طر ف بڑ ھتے چلے جا ئیں گے ۔

نمبر ایک کے موافق پیشے

آرٹسٹک تھیٹر یکل یا میدان خر یدوفروختکے لیڈرکی  حیثیت سے کبھی فیل نہیں ہو تے ۔ ڈائریکٹر شپ سکیموں کو عملی جامہ پہنا نے میں عظیم کر دار ثا بت  ہو تے ہیں ۔

آرا ئش  و نمائش کے سلسلے میں ان کی  صلاحیت  قا بل قد رہو تی ہے ۔

ملا زمت میں  مدد گار

ا یگز یکٹو  سیکر ٹر ی  اسسٹنٹ  مینجر  اسٹو ر  یا ڈ پا رٹمنٹ  کے اسسٹنٹ  خر یدا ری  کر نے  وا لوں کے اسسٹنٹ  اسسٹنٹ چیف ۔

آ رٹ

‘آرٹسٹک اور قوت تخلق میں طو فا ن پیدا کر سکتے ہیں ۔تھیٹر یا پینٹنگ میں نما یاں شہرت حاصل کر سکتے ہیں ۔ یا فلم پر ڈیو سر یا فلم ڈائریکٹر اپنے نئے تخیل سے حیران کن تخلیقی کام کر جاتے ہیں۔

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button